← Back to writings
Poetry

اگر جنازوں سے لَوٹ آئے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ہم اپنے تازہ اُٹھے جنازوں سے لوٹ آئے
تو دیکھ لینا
ہمیں یہ مہلت گُلوں کے بونے میں کام آئے گی
امن شاموں کو صبح کرنے کا نام دے گی
اگر ہمارے سَروں کے کوزے نقاب پوشوں کے گرم سیسوں سے بچ کے نکلے
اگرہمارے دِلوں کی شمعیں بجھانے والے بجھا نہ پائے
تو اہلِ قریہ تمھیں بشارت ہو، تم کو دیں گے کِھلے گلابوں کے سُرخ تحفے
شبوں کی وادی میں امن قصوں کے کُہنہ گوشے
اگر جنازوں سے لوٹ آئے
ہم اپنے پھولوں کے خون چہروں کو بوسہ دےکر
صفا شہیدوں کی لالہ شفقوں کو دفن کر کے
تمھارے قریوں میں لوٹ آئے تو دیکھ لینا
ہمارے شانوں کے آسمانوں سے فاختائیں اُڑیں گی تم پر
تمھاری بستی کے روزنوں میں بنائیں گی وہ سُبک مزاجی کے آشیانے
تمھارے چھجوں کو کھول دیں گے پروں کی صورت
اگر جنازوں سے لوٹ آئے
وہی جنازے کہ صبح اُن کو اُٹھا کے لاتے ہیں قتل گاہوں کی رونقوں سے
پھر اُن کو شامِ شفق کے سائے سپرد کرتے ہیں خامشی سے
لحد کے قُبوں پہ باندھتے ہیں امام ضامن کے کالے دھاگے
یہی ہمارا ہے روز نامہ
کہ لَوٹنے پر ہمارے قاتل سُبک روی سے ہماری گردن کو کاٹتے ہیں
سو ہم لہو سے جمی ہوئی بستیوں کو اب تک نہ دھو سکے ہیں
کبھی جنازوں سے ہم سلامت پلٹ کے آئے تو دیکھ لینا
یہ بستیاں جو جمے لہو سے سیہ پڑی ہیں
یہ سبز ہوں گی
یہ خوں گرفتہ جو وادیاں ہیں یہ ابرِ نیساں سےدُھل کے تاروں
کی گردہوں گی
مگر یہ لازم ہے اہلِ قریہ کہ ہم جنازوں سے لوٹ آئیں

مارچ کے پھول