← Back to writings
Poetry

ایک تماشا سورج والی رات میں ہو گا، ایک دِنوں کے تاروں میں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ایک تماشا سورج والی رات میں ہو گا، ایک دِنوں کے تاروں میں
یعنی شب بھر دیے جلیں گے،پھول کھِلیں گے، صبح کو حیرت یاروں میں

کون گگن پر چاند جلا کر، دودھ نہا کر، اُجلا اُجلا نکلے گا
جس کے لہوکی روغنی تاریں چاندنی کاتیں، دِن برسائیں غاروں میں

چرخہ جب تک گھوم رہا ہے، گھُوک سنو گے، روپ سہانے دھاگے کی
دھاگا سُوت کی بُنتی میں ہے، بُنت ہے چادر اور چادر کی دھاروں میں

آگ کی بیلیں طُورِ یقیں سے دِل کے مکاں پر،ہنستے ہنستے چڑھنے لگیں
جب تک راکھ نہ ہو جائیں ہم مُسکائیں اور گریہ کریں دیواروں میں

سبز بستیوں کے غزال