← Back to writings
Poetry

باغ پر لاکھوں زمستاں آگ بن کر اُترے ہیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

باغ پر لاکھوں زمستاں آگ بن کر اُترے ہیں
تب کہیں شاخوں کے تن سے زیور و زر اُترے ہیں

یار کا محمل اگر دشمن کے گھر پر اُترا ہے
یار کے فتنے ہمارے گھر کے اندر اُترے ہیں

ناف کے برتن میں ہے جو دودھ اُس کو آب دُوں
یہ گنہ کے خواب میرے دل پہ اکثر اُترے ہیں

کھا گئے دہقاں کا سونا منڈیوں کے لوہا باٹ
سومناتی دیویوں پر غزنی لشکر اُترے ہیں

چھتریاں کھُلنے لگیں ہیں شہر کے چوباروں کی
فاختائی بام پر تیرے کبوتر اُترے ہیں

تصویروں کا باغ