← Back to writings
Poetry

بانسوں کا جنگل

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

مَیں بانسوں کے جنگل میں ہوں جن کے نیزے بنتے ہیں
صاف ہری لچکیلی شاخوں والا جنگل بانسوں کا
جس کی رگوں میں میٹھا پانی صبحِ ازل سے جاری ہے
سبز گھنیرے پتّے اِس کے اور پتوں کے سائے ہیں
نرم زمین اور ٹھنڈی مٹی اور مٹی کی خوشبوئیں
مست خُنک مدھوش ہوائیں ہَولے ہَولے چلتی ہیں
لوگ مسافر نیل گگن کے جنگل میں آجاتے ہیں
دیکھ سرائیں خواب زدہ میٹھی نیندیں سو جاتے ہیں
لیکن صد افسوس یہاں کے کالے ناگ قیامت ہیں
شاخوں پر لٹکے رہتے ہیں اور دھرتی پر رینگتے ہیں
ڈس لیتے ہیں، کھاجاتے ہیں، سانس ہوا ہوجاتی ہے
آخر خود بھی بن جاتے ہیں سانپ کے اندرجاکرسانپ
وائے کچھ معصوم یہاں سے بچ کر بھاگنے لگتے ہیں
لیکن جنگل بانسوں کا ہے جن کے نیزے بنتے ہیں

بے یقین بستیوں میں