← Back to writings
Poetry

بانس کی نرکل

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

بانس کی نرکل دل میںپھنسی ہے، پھوٹ رہے ہیں نیزے
نیزے چھید رہے ہیں سانسیں اور سانسوں کی عمریں
کچی باتیں مت کر بھائی، باتیں نرکلوں جیسی
روح کی پرتیں پھٹ جاتی ہیں، کھا کر شوق نگینہ
موت کی لہروں والا، نیلی پرت کا ہالا
سرد ہوا سے کٹ جاتا ہے، جیسے ناگنی سینہ
زہری منکے والا، سبز لہو کا پالا
کچی باتیں کرنے والے دیکھ ہوا کی صحبت
جھاڑ کے کانٹے رکھ دیتی ہے، نرم لَووں کے کانٹے
موت کا پانی بانٹنے والی، گھر گھر مشکیں بانٹے
بالکا من ہے چھوٹی عمر کا، عمر سبا کی رانی
ہُدہُد جس کی کھوج میں بیٹھا، خبریں دینے والا
خاموشی سے کھود رہا ہے صندلی تخت پُرانا
کھینچ کے آخر لے جائے گا اِس کو ہیکلی راجا
کچی باتیں مت کر بھائی، بانس کی نرکل جیسی

سُرمنڈل کا راجہ