← Back to writings
Poetry

باورا چھوکرا

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

وہ گاؤں گاؤں پھِر گیا گلہریوں سے گفتگو کے شوق میں
بہار آفرین سبز سبز پانیوں کے درمیاں سیاہ رنگ بیریوں کے باغ میں
وہ دیکھتا شریر طوطیوں کو نیلگوں مزاج نرم نرم کونپلوں سے کھیلتے ہوئے
گلاب اور کاسنی شراب جیسی تتلیوں کے ٹھنڈے ٹھنڈے غول کو اُڑا کے بھاگتا تھا آسماں کی بدلیوں کے ساتھ ساتھ
پَاپَلر کے اُونچے اُونچے جُھنڈ کے چہار سُو
جو گہرے گہرے پانیوں کی نہر کے کناروں پر تھے پیپلوں کے رو برو
وہ پیپلوں کے سائے سائے لمس لے کے دوڑتا نشیلے موسموں کی پربتی ہواؤں کا
وہ اس قدر نفیس تھا کہ ننگے پاؤںگُھومتا اُفق کی زرد زرد وادیوں کے قرب میں
دماغ بن کے سونگھتا تھا کچّے آنگنوں کی خوشبوئیں بہار کے شباب میں
تمام دن گزارتا تھا سردیوں کی میٹھی میٹھی دکنی سفید دھوپ میں
وہ دُور دُور کھوجتا تھا لہلہاتے سبز یوں کے کھیت کو جو دھوپ کی تمازتوں میں سبز آئنے سے تھے
خرام کر کے ہولے ہولے ہنس کی وہ چال میں سویر ے شام باجرے کے پاتروں سے چاٹتا تھا موتیوں کے نُور کو
جو آسمانی ساگروں سے آ گرے تھے پاتروں کی ناف پر
ضرور دیکھتا سنہرے سورجوں کی روشنی میں ڈوبتے منارچوں کی چوٹیوں کو غور سے
جو گاؤں کی امین مسجدوں کے حسن کا طلسم تھے
عجیب تھا وہ باولا سا چھوکرا کہ جانتا تھا بچپنے کی عمر میں ہی کوئلوں کی راگنی، کبوتروں کی بولیاں
مگر نہ جانتا تھا بات یہ کہ ایک روز آئیں گی برات لے کے شاعری کی دیویاں
بٹھائیں گی وہ دیویاں اُسے حسین ساحری کے تخت پر
جہاں وہ جگنوؤں کی روشنی میں رات بھر چُنے گا لفظ لفظ نور کے

بے یقین بستیوں میں