← Back to writings
Poetry

ترے مکاں کے بام پر

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ترے دیار میں خزاں، خزاں کے فصل بے ثمر
خزاں کی فصل میں سفر، سفر کی رات بے خبر
تمام دیس اجنبی، خموش ایک اِک مکاں
ترے مکاں کے آس پاس رہگزر نہ راہگیر
فقط اُداس دو شجر، برہنہ سرتھکے تھکے
شجر، کہ جن کی ٹہنیوں نے کھو دیے ہیں برگ و بار
ہوا کی سرد لہر سے وہ کپکپا کے رہ گئے
اتر رہے ہیں دم بہ دم سفید ُکہر کے غبار
اسی غبار میں چھپے ترے دیار کے نصیب

مکاں سے دور آسمان، آسماں پہ قمقمے
ٹھٹھر ٹھٹھر کے بجھ گئے وہ زردرُو و چراغ بھی
خلا کی دھندلی برف پر سکڑ کے چاند جم گیا

ترے مکاں کے بام پر دیوں کی ہلکی روشنی
ستا رہی ہے رات کو ، بڑھا رہی ہے خامشی
اسی مہیب خامشی میں دو قدم دبے دبے
کبھی وہ چل کے رک گئے کبھی وہ رک کے چل پڑے
وہ چل پڑے تو زندگی کا نور پھیلنے لگا
جو رُک گئے تو رُک گئی ہے نبض کائنات کی

یاقوت کے ورق