← Back to writings
Poetry

جو سچا فن کار

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

سر کاندھے کا بار پُرانا، جس کے سر پر بار
وہ جھوٹا مکار
سانچ سمے سے دُور رہے پر کہلائے اوتار
جس بستی میں زر کا پانی، اُس بستی کا یار
ہوس کا اِک بیو پار
اُوک اُٹھا کر چلنے والا کاہے کا ہشیار
ناند گدا ئی بیٹھا پیوے ازل کا دھوکے دار
طوق ہوائے شہر کا اُس کی گردن پر آزار
شاہ کا ریزہ خوار
ایک سخی سردار وہ سچا، شانے جس کے چار
موت کا ماتھا چومنے والا، سر کا پھینکے بار
سر کی جگہ پر سُرخ پھریرا لہر علم بردار
اور دُہائی دیتا جائے سانچ کا پہریدار
بُرجوں کا سردار
وقت کے تسمے باندھنے والا لوبھی اور ہتیار
ہتیارا فنکار نہ ہووے، لاکھ کرے وہ کار
دل کی رگوں پر قلم چلا کر بھرے لہو کی دھار
ایسی رُت میں سانچ مسافر، سُولی کا اسوار
حرف لہو سے لکھتاجائے، حرف فقط اِنکار
ہر لمحے سو بار
جھوٹ کی ناف پر رکھ کر پھیرے لعنت کی پرکار
سر دیوے پر بات نہ دیوے، دیوا چانن ہار
لمحہ لمحہ پھیلتے جائیں جس کے سُچے تار
تار جلیں تو مہک اُٹھے ہر ندیا کا پار
اور تماشا بن جائے ہے رین پورہ دربار
رین پورہ دربار اُجاڑنے والا ہی اوتار
اِک سچا فنکار

سُرمنڈل کا راجہ