← Back to writings
Poetry

درد کا میلہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دل نے درد کے میلے میں ہم کو بلایا، ہم آئے
آنکھ میں خون کا کاجل ڈالا
زخم کا تن پر چولا پہنا
جگراتے کا ڈھول گلے میں
خارِ مغیلاں پاؤں میں
جیب میں کوڈیاں آہوں کی
سر پہ بَلاؤں کی پگڑی
درد کے میلے میں ہم نے بھنگڑا ڈالا ماتم کا
دل نے درد کے میلے میں ہم کو بلایا، ہم آئے
ست رنگوں کے غم میلے میں ست رنگوں کے جھولے تھے
سینکڑوں غم تھے صبح کے بھٹکے شام ڈھلے بھی بُھولے تھے
صحرا جاگ رہا تھا قضا کا، ہر سُو رقص کناں آہیں
درد کا میلہ دیکھنے والے بُھولے گھر کی راہیں
رات گئے تک میلہ دیکھا آخر تھک کر چُور ہوئے
پچھلی رات کو آ پہنچی پھر موت کی لمبی بانہیں
آخر موت نے گود میں لے کر لمبی نیند سلایا
دل نے درد کے میلے میں ہم کو بلایا، ہم آئے
ہم نے آنکھ میں کاجل ڈالا
جگراتے کی سلائی سے
ہم نے کان میں بُندے پہنے
فرقت کی استھائی سے
پہلی چاند کو نکلے گھر سے چودھویں منزل میں آئے
دل نے درد کے میلے میں ہم کو بُلایا ہم آئے

مارچ کے پھول