← Back to writings
Poetry

دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخمِ جگر میں تانبا ہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخمِ جگر میں تانبا ہے
اتنا بھاری سینہ لے کر شخص آوارہ پھرتا ہے

کانچ کے ریزے تیز ہوا میں باولے اُڑتے پھرتے ہوں
ننگے بدن کی چاندنی سے پھر تارا تارا گرتا ہے

آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے
کیسے کھُلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے

کالے دیوتا مٹھی بھر بھر سُونے گھروں میں پھینکتے ہیں
کُہر زدہ بستی کے چوک میں راکھ کا اونچا ٹیلا ہے

سرد شبوں کا پوچھنے والو اِن راتوں کے تارے دُور
دُھندلے چاند کے نبضیں گونگی، آگ کا چہرہ نیلا ہے

پیپلوں والی گلیاں اُجڑی ڈھیر ہیں پیلے پتّوں کے
سامنے والی سرخ حویلی میں بھوتوں کا ڈیرا ہے

سبز بستیوں کے غزال