← Back to writings
Poetry

دن کا سمے ہے، چوک کنویں کا اور بانکوں کے جال

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دن کا سمے ہے، چوک کنویں کا اور بانکوں کے جال
ایسے میں ناری تُو نے چلی پھر تیتری والی چال

جامنوں والے دیس کے لڑکے، ٹیڑھے اُن کے طَور
پنکھ ٹٹولیں طوطیوں کے وہ پھِر پھِر کر ہر ڈال

وہ شخص اَمر ہے، جو پیوے گا دو چاندوں کا نُور
اُس کی آنکھیں سُرخ انگوری جو دیکھے اِک لال

شام کی سانولی رُت نے بھرے ہیں آبِ حیات سے نین
مونگروں والے باغ نے اوڑھی گہری کاسنی شال

کون سنہری چُوڑیوں والی کانچ گلی میںآئی
کس کی کھنک سے تانبا بدن میں گونج رہی ہے تال

سبز بستیوں کے غزال