رنگ بھری اِن آنکھوں سے ایک نگہ اُٹھایے آپ
علی اکبر ناطق
رنگ بھری اِن آنکھوں سے ایک نگہ اُٹھایے آپ
حیرتیں نقش کیجیے اورخدا بنایے آپ
ہجر کی آگ میں جلے کون یہاں تمام عمر
جانے لگے ہو گھر سے تو اِس کو بجھا کے جایے آپ
چلتے ہوئے سفر کی شام ایک شفق بھی لے چلو
چاند جہاں نظر پڑے اُس کو لہو لگایے آپ
راہ اگر دُھلی نہ ہو آنکھ سے پانی پھیریے
پھول اگر بچھے نہ ہوں کاٹ کے دل بچھایے آپ
ریت کہاں سے آ پڑی، ریت بہت زیادہ ہے
خیر یہ دل بھی صحرا ہے نعش یہیں دبایے آپ
صبح بہت ہی دور تھی شہر سے جب مَیں نکلا تھا
سوئے ہوؤں کوکیا خبر دشت میں شب منایے آپ
تصویروں کا باغ