← Back to writings
Poetry

شعر کہے تو چاند بنائے، بات کرے تو پھول

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

شعر کہے تو چاند بنائے، بات کرے تو پھول
چاندنی بیچنے آیا شاعر مسکانوں کے مُول

چار دنوں کی عمر کی پونجی یار گلی کے نام
دو پیسے کی ریت کمائی، دو پیسے کی دُھول

خوشبو پالنے والا پنچھی نوکِ اجل کا ناز
اُڑ جائے گی باس گُلوں کی رہ جائے گی سُول

کس دن تیری راہ پہ بھٹکے، بھول گئے وہ روز
تیر ی صورت پر کب بھولے، یاد نہیں وہ بھول

ہار سنہرے والی مالن سُرخ گلوں کی رات
میری جھولی ڈال گئی ہے درد کے پیلے پھول

نِتھری لفظیں بولنے والے بوذر، میثم لوگ
نادِ علیؑ کے مَنکے گن کر دار کا جھولا جھول

سبز بستیوں کے غزال