← Back to writings
Poetry

ضمانت

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ابھی ہوائیں تیز ہیں ثبات بے قرار ہے
نقیبِ راہ آ گئے غبار کی لپیٹ میں
ذرا کی دیر کشتیوں کے بادباں سمیٹ لو
کہ اُس یقین سے بڑے سمندروں کے پیٹ ہیں
جو آیتوں کی شکل میں ہمارے بازوئوں پہ کچھ
سیاہ ڈور سے بندھے ضمانتی حروف ہیں

ذرا سی دیر چپوئوں کو ریت پر سکون دو
کہ دست و بازوؤں میں جان اُس عمل سے کم ہوئی
جو موجِ شر کو چیر کے زمیں کا لمس لے سکے
ابھی تمام رسیوں کے قد بڑھائو چوُب تک
جو خشکیوں کے دل میں گاڑ دی تھی نوح نے کبھی
ابھی نہ پانیوں سے اپنی تختیوں کو نَم کرو

خبر ہے یہ کہ ساحلوں کے کچھ مکین گُم ہوئے
کہیں یہ اُن کو چاہ تھی وہ خضر کو سلام دیں
اُنہی یتیم واعظوں کا جو سفر نہ کر سکے
کہ اُن کے پاس دیکھنے کو صاف آئینے نہ تھے

مگر وہ لوگ ساحلوں پہ لوٹ کر نہ آ سکے
تمام زادگانِ خاک رزق آب ہو گئے
سنا ہے خضر تخت پر سفید پانیوں میں تھا
وہ اُن کو دیکھتا رہا فریب کی نگاہ سے
نہ پائے خشک رکھ سکا بڑھا کے آبِ سرد پر
کہ اُن کے درمیاں بھنور کے راستے مہیب تھے
یہاں تلک کہ روشنی کو تیرگی نے کھا لیا
فقط وہ نوحہ گر رہا کہ زندگی عزیز تھی

بے یقین بستیوں میں