← Back to writings
Poetry

عصر کا سورج سُرخ ہوا اور شام کا نقشہ پھیل گیا ہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

عصر کا سورج سُرخ ہوا اور شام کا نقشہ پھیل گیا ہے
وادیٔ کربل ریت میں تیری پانچواں دریا ڈوب رہاہے

زینب دوڑ خیام کی جانب ، چھوڑ دے لاشہ بھائی کا
دیکھ غشی میں سرد ہے عابد آگ سے خیمہ جلنے لگا ہے

شام کی خلقت دیکھ رہی ہے نوکِ سناں کے چاندوں کو
دیکھ یزید لعین تمھارے بخت کا تارا ٹوٹ گیا ہے

زینب تنہا ذات مسافر ساتھ یتیم قبیلہ سارا
سر پہ مصائب والی گٹھڑ ی اور یزیدی مُلک بُرا ہے

کون قبیلے والے ہیں یہ، حمد ہے جن کے تشنہ لبوںپر
آل محمد عربیؑ کی ہے اور یہ اصل میں فوجِ خدا ہے

رسن سے باندھے طفل و جواں اور حرمِ حیا ہیں ننگے سر
صحرا صحرا پائے برہنہ زہرا کا یہ پُور چلا ہے

اکبر تیری لاش نے توڑی کمر پیمبر زادے کی
رحمتِ عالم ٹکڑے ہو کر ریت پہ کیسے بکھرا ہے

سبز بستیوں کے غزال