← Back to writings
Poetry

عظیم مدفن

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

وہ کہہ رہے ہیں یہ حادثہ ہے
تو کیا ہم اِس کو بھلا دیں ایسے؟
کہ جیسے ہم نے بھلا دیا ہے غلام زادوں کے سلسلوں کو
اور اپنے سینے میں حفظ رکھا
نشیبِ دریا کی وادیوں کے فریب خوردہ خدائوں کے اُس غرور و نخوت کو
جن کے مدفن عظیم تر ہیں
زمیں کے سینے پہ استقامت سے صدیوں پہلے کے بوڑھے اژدر
زباں نکالے جو حیرتوں کو نِگل رہے ہیں
بلند وبالا، عظیم مدفن، کہ اُن کی ہیبت عصائے موسیٰ کو کھاگئی ہے
ہمیںخبر ہے یہ وہ خدا تھے
غلام جن کے قطار اندر قطار چلتے تھے رسیوں سے بندھے ہوئے
اور پتھروں کو گھسیٹتے تھے تو سانس لینے کی آرزو بھی اٹک کے سینے میں بھول جاتی
مگر کبھی بھولتے نہیں تھے ہُنر وہ پتھر دھکیلنے کا
کِسے خبر ہے کہ اُن غلاموں کے ایک پتھر میں کتنے مدفن بنے ہوئے ہیں
عظیم مدفن بنانے والے ہُنروروں کے ہیںایک پتھر میںسو سو مدفن
وہ کہتے جائیں کہ حادثہ ہے
مگر بھلائیں ہم ان کو کیونکر؟
کہ جیسے ہم نے بھلا دیا ہے عظیم مدفن بنانے والے ہنر وروں کو
ہم اپنے سینے پہ ہاتھ ماریں گے
اپنے دل سے گواہی دیں گے
اُنہی کی خاطر جو تیز لوہے سے کٹ گئے تھے
جو نوکِ نیزہ پہ اُٹھ گئے تھے
مگر وہ دب کر مرے نہیں تھے فریب خوردہ خدائوں کے اُس غرور و نخوت کی بھاری سِل میں
یہی سبب ہے کہ اِن خدائوں کا آج کوئی نشاں نہیں ہے
نہ کوئی اِن کا عظیم مدفن

بے یقین بستیوں میں