← Back to writings
Poetry

قصرو مکاں سب ڈوب چکے دریا ڈوبنے والا ہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

قصرو مکاں سب ڈوب چکے دریا ڈوبنے والا ہے
کتنی گہری آنکھوں والا اِس بستی سے گزرا ہے

بہتی سڑکیں چلنے والے دیکھ رہے ہیں راہ مری
مَیں نے سو دیواریں توڑیں تب اِک رستا نکلا ہے

کافرِ غم نے آیت و زم زم، سب کچھ سے انکار کیا
ہم نے پڑھا جب شعرِ فسوں تو آنکھ سے چشمہ پھوٹا ہے

دشت کے کانٹے چُننے والے گرد بنے ہیں بگولوں کی
جس نے میخ صلیب کی جھیلی شاخِ شفق پر اُبھرا ہے

شام پڑی ہے بحرِ فلک پر داغ چمکتے جاتے ہیں
چاند کا سینہ ماتمی سارا، کون ستارا ڈوبا ہے

سبز بستیوں کے غزال