قصرو مکاں سب ڈوب چکے دریا ڈوبنے والا ہے
علی اکبر ناطق
قصرو مکاں سب ڈوب چکے دریا ڈوبنے والا ہے
کتنی گہری آنکھوں والا اِس بستی سے گزرا ہے
بہتی سڑکیں چلنے والے دیکھ رہے ہیں راہ مری
مَیں نے سو دیواریں توڑیں تب اِک رستا نکلا ہے
کافرِ غم نے آیت و زم زم، سب کچھ سے انکار کیا
ہم نے پڑھا جب شعرِ فسوں تو آنکھ سے چشمہ پھوٹا ہے
دشت کے کانٹے چُننے والے گرد بنے ہیں بگولوں کی
جس نے میخ صلیب کی جھیلی شاخِ شفق پر اُبھرا ہے
شام پڑی ہے بحرِ فلک پر داغ چمکتے جاتے ہیں
چاند کا سینہ ماتمی سارا، کون ستارا ڈوبا ہے
سبز بستیوں کے غزال