← Back to writings
Poetry

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا
بھید کھلتا کیوں نہیں اے دل ترے آرام کا

فاختائیں بولتی ہیں باجروں کے دیس میں
تو بھی سُن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا

ٹھنڈے پانی کے گگن میں ساتویں کا چاند ہے
یا گرا ہے برف میں کنگرہ تمھارے بام کا

کُوکتا پھرتا ہے کوئی دُھوپ کی گلیوں میں شخص
تم نے شاید سُن رکھا ہو حال اُس کی شام کا

چھوٹے چھوٹے آنگنوں میں بے صدا سی مورتیں
شور سنیوں میں ہے جن کے حسرت و ہنگام کا

سبز بستیوں کے غزال