ندیاں پار کرانے والے ڈوب گئے
علی اکبر ناطق
ندیاں پار کرانے والے ڈوب گئے
چپو تیز چلانے والے ڈوب گئے
صحرائوں کا سینہ تاپنے والے لوگ
سبز گھروں سے آنے والے ڈوب گئے
بطخوں کی تیراکی دیکھنے آئے تھے
جھیل میں غوطہ کھانے والے ڈوب گئے
حُسن کودھوکا دینے والے سادہ لوگ
آنکھ سے دھوکا کھانے والے ڈوب گئے
چھڑیاں ریت میں اُگ آئی ہیں صندل کی
ریت میں شہر بسانے والے ڈوب گئے
ہم جھیلوں پر اِسی بہانے جاتے تھے
آخر ڈوبنے جانے والے ڈوب گئے
سبز بستیوں کے غزال