← Back to writings
Poetry

ندیاں پار کرانے والے ڈوب گئے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ندیاں پار کرانے والے ڈوب گئے
چپو تیز چلانے والے ڈوب گئے

صحرائوں کا سینہ تاپنے والے لوگ
سبز گھروں سے آنے والے ڈوب گئے

بطخوں کی تیراکی دیکھنے آئے تھے
جھیل میں غوطہ کھانے والے ڈوب گئے

حُسن کودھوکا دینے والے سادہ لوگ
آنکھ سے دھوکا کھانے والے ڈوب گئے

چھڑیاں ریت میں اُگ آئی ہیں صندل کی
ریت میں شہر بسانے والے ڈوب گئے

ہم جھیلوں پر اِسی بہانے جاتے تھے
آخر ڈوبنے جانے والے ڈوب گئے

سبز بستیوں کے غزال