نرم آواز کے نغموں سے چہکنے والی
علی اکبر ناطق
نرم آواز کے نغموں سے چہکنے والی
فاختہ ایک محبت کے چمن زاروں کی
صحنِ گل پوش کے خوابوں میں رہے محوِ خرام
فصلِ پُرخار میں پھرتی ہے صبا کو روتی
فاختہ، فیض کے آنگن میں مگر ایک غزل
ایک تصویرِ محبت ہے کہ مانی کا ہنر
ہاں سلیمیٰ جسے خود نقش بنانے کے جنوں
امن کے رنگ یوں قرطاس کے دل پر رکھ دے
جیسے تالاب کے سینے پہ ہو چاندی کا کنول
صورتیں بانٹتا ہو مُوئے قلم جیسے اُسے
آ گئے نقش بنانے کے ہنر کیسے اُسے
(سلیمیٰ ہاشمی کے لیے )
یاقوت کے ورق