نیلا پنکھو
علی اکبر ناطق
نیلا پنکھوکس نے دیکھا،کون بتائے
کون بتائے نیلے پنکھو کی پہچان
ایک بجھارت لاکھ برس کی نیلا پنکھو
بوجھے اُس کو کون بھلا انسان
میرے دل کی نیلی شاخوں پر اُس کا احسان
جوڑ کے نیلے پیڑ کے تنکے نیلے پنکھو
اِن شاخوں پرآہلنا پایااَن دیکھے پردھان
نیلی شاخیں سبز ہوئیں اور پھلی مسکان
ساتھ مرے اب گائے گیت وہ نیلا پنکھو
نیلا پنکھو کس نے دیکھا، کون بتائے
نیلا پنکھو مَیں نے دیکھا
سانس کی نیلی لہر میں دیکھا
نیلے پنکھو کی دو آنکھیں نیلم کی
نیلم کی اک گول سی گانی اور پازیبیں نیلم کی
کلغی نیلے پنکھو کی اِک نیلم موتی
پائوں نیلے نور کے کنگرے
عرشِ عُلیٰ کے پہلو والے نیلے کنگرے
عرش جو قوسِ نظر تک نیلا
جس کے پار خدا کی ٹیلا
ٹیلا نیل کے منڈل والا
نیلے پنکھو کے پَر چِکنے اور ملائم نیلم کے
نیلے پنکھو کی منقار میں ٹکڑے تیز کٹیلے
نیل گگن کے ٹکڑے نیلے
نیلا پنکھو روغنی پَر سے اُڑتا ہے
نیلے فلک تک اُڑتا ہے
نیلی رُت میں اُڑتا ہے اور گاتا ہے
گیت فنااور نیلے بن کے
نیلا پنکھو مَیں نے دیکھا
نیل نگر کی نہر میں دیکھا
نہر میں اُس نے ڈُبکی کھائی
اک پنکھو کی مثل بنائی
اور اُفق کے نام ہوا وہ نیلا پنکھو
نیلا پنکھو مَیں نے دیکھا
سُرمنڈل کا راجہ