← Back to writings
Poetry

گلابوں والی

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

رات گلابوں والی نے کچھ ہار گندھے
درد کے ریشوں میں پلکوں سے پھول پروئے
ہلکا ہلکا نور بہایا آنکھوں سے

گرد و غبار کے وطنوں کا اک بنجارہ
سبز خطوں کا امبر دیکھنے آیا تھا
نور کا امبر، جس کی دُودھیا پریاں ہیں
رات کے گھر سے ٹھنڈی شبنم پیتی ہیں

سبز خطوں کے دیس میں بھٹکا بنجارہ
کالی بھنوؤں کے ہتیاروں نے لوٹ لیا
ذات نہ پوچھی نین سلونے والوں نے

یاقوت کے ورق