گِریے جم جم کے یوں کیے ہم نے
علی اکبر ناطق
گِریے جم جم کے یوں کیے ہم نے
دشت زم زم سے بھر دیے ہم نے
میرے مالِک عصا نہیں مانگا
کام نبیوں کے تھے، کیے ہم نے
طشتِ شیشہ ہے، دل کے ٹکڑے ہیں
گُل قرینے سے رکھ دیے ہم نے
اور کیا ہجر سے جزا پاتے
دو کٹور ے تھے، بھر لیے ہم نے
اُس گلی میں گئے قدم رکھنے
رستے پلکوں سے طے کیے ہم نے
شہر میں دن نہیں نکل پائے
پردے آنکھوں کے جب سیے ہم نے
مکتبِ شہر چھوڑ دے ناطق
چہرے یاروں کے پڑھ لیے ہم نے
سبز بستیوں کے غزال