← Back to writings
Poetry

ہڈیوں کے دفینے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

وہ کہتا تھا مجھ کو کنواں کھودنے کا سلیقہ نہیں ہے
وہ کہتاتھا میں نے کوئی خواب دیکھا
جہاں پر گڑھے پاٹنے والیاں بین کرکر کے روتی تھیں
اوراپنے مُردوں کو دفنا رہی تھیں
ہزاروں برس پہلے جو مر گئے اُن چمکتے سرابوں کی ریتی کو کھاکر
جہاں سے خُنک پانیوں کی طرف راستہ ہی نہیں تھا
وہ مُردے، کہ انکار کرتے رہے ایسے گہرے گڑھوں کا
جو اگلے زمانے کے مُردوں نے کھودے اُنہی کے لیے
اورتیشے چھپا کر سرابوں میں رکھے
جہاںکام آئیں کنواں کھودنے کے
مگر کام آئے نہ اُن کے وہ تیشے کنواں کھودنے کے
کہ اگلے زمانے کے مُردوں کو بھی کچھ سلیقہ نہیں تھاکنواں کھودنے کا
خبردینے والے نے مجھ کو خبردی
وہی، جو وہ اگلے زمانے کے مُردوں کودیتارہاتھا
مگر میں نصیحت کے لمحوں میں سرکش
سرابوں کے ٹیلوں پہ کتنی ہی صدیوں سے مصروف ہوںایک تیشہ لیے
اور میرے لبوں پر تہیں ریت کی جم رہی ہیں
وہی ریت، جس پر چڑھی موت کی زرد رنگت
اُدھر وہ گڑھے پاٹنے والیوں کی صدائیںقریب آگئیں
شور بڑھنے لگا بین کا
اور میں اِن سرابوں کے ٹیلوں پہ حیران
تیشے کی ہر ضرب پر ہڈیوں کے دفینے نکلنے لگے
رفتہ رفتہ مرے چار سُوڈھیریاںبن گئیں
ڈھیر بڑھتے گئے،ہڈیوں کی فصیلیں کھڑی ہوگئیں
درمیاں اُن کے آہستہ آہستہ مَیں خُود چٹخنے لگا
کڑکڑاتا ہوا ریت پر جاپڑا
اور تیشہ مرے اک طرف خامشی سے
نئے اِک گڑھے کھودنے والے کا منتظر ہے
وہ کہتاتھا میں نے کوئی خواب دیکھا

بے یقین بستیوں میں