← تحریروں کی فہرست
شاعری

آنکھ حیران ہے تاروں کے نکھر جانے پر

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

آنکھ حیران ہے تاروں کے نکھر جانے پر
پھول شاداب ہیں تتلی کے پلٹ آنے پر

ایک بے نام سے ذرے نےپَروں کو باندھا
زعم انساں کو زیادہ تھا اُڑے جانے پر

کتنی صدیوں کے گزرنے پہ پرندے دیکھے
آج سرشار ہوں بچپن کے چلے آنے پر

گرد سے پاک ہوئی چشم کی شبنم دُھل کر
کیسی بے نور تھی چمنی کا دُھواں کھانے پر

عقل کو میری سلامی ہے مگر اے ہم دم
پھیر لے چشم کبھی دل کے نہاں خانے پر

تصویروں کا باغ