← Back to writings
Poetry

آواز لگائی

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

آواز لگانا آتی تھی، آواز لگائی
میں نے ایک آواز لگائی، کوئی سنے آواز
جھولی بھر کر روشن تارے
ہاتھ میں چاند کی کرنیں لے کر
اوس کے جیسا اُجلا من کا
ایک مسافر نُور کے بَن کا

موت کی صورت خواب میں ڈوبے طاق جگانے
مَیں باورا شہر کو نکلا ہوں آواز لگانے

کوئی سنے آواز
لہریں لیتا اک منظر ہے
دِل پھولوں کی کشتی پر ہے
پانی پانی تیرتا آیا
نور کے موتی چن کر لایا
نیکیوں والی گٹھڑی سر پہ، گلی گلی میں جاتا ہوں
موتی بانٹنے والا مَیں آواز لگاتا ہوں
کوئی سنے آواز

اُڑتے اُڑتے مَیں گزرا ہوں
پھیلتے رنگوں کی قوسوں سے
پہروں بیٹھ کے باتیں سیکھیں
نیلے بادلوں کی پریوں سے

پریوں کا ہمراہی میں ہوں، دیس مرا کوہ قاف
قاف نگر سے لے کر آیا خشبوئوں کی ناف
کوئی سنے آواز

ملکِ عدن سے اُترا ہوں مَیں
رات گگن کے تارے لے کر
دیکھنا اک دن چُھپ جاؤں گا
تارے بانٹتا بانٹتا آخِر

چُھپ جانے سے پہلے مجھ سے تارے لے لو
خاک نگر کے لوگو! روشن تارے لے لو
کوئی سنو آواز

بے یقین بستیوں میں