← Back to writings
Poetry

قصبے کا سٹیشن

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

قسمت کا رِزق کھا کر پنچھی چلے گھروں کو
سورج بھی سوگیا ہے ٹیلوں کی اوٹ لے کر
سنسان رہگزر ہے خاموش فاصلے ہیں
گم سُم ہیں شام سے ہی پیڑوں کی دو قطاریں
اب رات ہوگئی ہے ہر سمت خامشی ہے
اے اجنبی مسافر گاڑی تو جاچُکی ہے
ویران کس قدر ہے قصبے کا یہ سٹیشن؟

مُڑمُڑ کے دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی
ہر بار زندگی میں یوں دیر ہم نے کی ہے

اب رات کے جناور تنہائیوں کے ساتھی
چِڑبِلوں کی چیخیں غم خوار ہیں دلوں کی
لیکن نہ جی پہ لانا اے اجنبی شناسا
ہم آج شب کے ساتھی ہم دور کے مسافر
اِک دوسرے کو اپنی سب داستاں کہیں گے
برگد کے پیڑ نیچے یوں رات کاٹ لیں گے

بے یقین بستیوں میں