ابوطالب علیہ السلام
علی اکبر ناطق
یہ کون ولیوں کا بادشہ ہے
یہ کِن کریموں کا جد ِ طاہر
نجیب و اشرف ہے عالموں میں
کریم صُلبوں میں رُکتے رُکتے حرم کے پہلو میں آگیا ہے
جو سب سے پہلے خدا کی نیکی کو کہَہ کے لبیک پا گیا ہے
یہ کون سخیوں کا دیوتا ہے
سخا کے اونٹوں کو تیز لوہے سے ذبح کرکے جو ذو العشیرہ بنا گیا ہے
عرب کے پیروجوان شیخوں کواپنے گھر کا نمک کھلا کر
نبیؑ کی دعوت کو آب سینچا
رسولِ عرب و عجم کے کلمے کی میزبانی کا میرِ اول
خدا کی وحدت کے ایماں والا رسولِ آخر کا پہلا مومن
یہ عبد مطلب کا تاجِ اولیٰ، نجیب بیٹا
قُصی قبیلے کا شیخ سید
اِسی کی نوکِ عصا نے روکے بولہبیوں کی زباں کے دَشنے
بزرگ لفظوں کی عظمتوں سے اِسی نے جکڑے ہیں طعن و تشنیع
اِسی نے توڑے ہیں شر قبیلوں کے ترکشوں کے تمام نیزے
اِسی کی آنکھوں کے سُرخ چاندوں نے خوف ڈالا شراریوں میں
یہی ہے مولا علی کا بابا
قبیسِ مکہ کے پہلوؤں میں بسا ہوا یہ شریف چہرہ
حرم کے قُرب ِ دیوارو در میں پلا ہوا یہ کریم زادہ
اِسی کے قدموں کی چاپ کعبہ نے سُن رکھی ہے
ندائے عظمت اِسی کے گھر میں ازل کے کاتب نے خود لکھی ہے
یہی وہ پہلا امین ناصر ہے کوہِ عزم و وفا کا بانی
یہی بزرگِ شفیق و صابر ہے
جس کی ریشِ سفید نورِ سحر بنی ہے
شبوں کی آندھی میں اِس کی چادر نے ڈھانپے رکھا خُدا کی لَو کو
نبیؑ کے شانوں کا بار جس نے سُبک کیا ہے
عدوئے احمدؑ کی سب عداوت کو سر لیا ہے
غلافِ کعبہ نے اِس کے ہاتھوں کے لمس پائے تو اُس کوآبِ بقا ملی ہے
یہ ہلکے قدموں سے حل و حُرمت میں چلنے والا
یہی وہ سید ہے شیخِ مکہ
جسے خدا نے عظیم حجت کی پاسبانی کو چُن لیا ہے
سنو محمد کے دین والو
یہ دین عمراں کے دستِ شفقت کا پالا پوسا
حسد کی آتش میں جلنے والے اُمیہ زادوں سے امن دے کر اِسے بچایا
کبھی محمدؑ کا فرش بدلا کبھی یہ شِعبوں میں جا چھپایا
علی کے بابا کے دشمنوں کو خبر نہیں ہے
رسولِ عربی کے منکروں کو پتا نہیں ہے
کہ اُن کی عقلیں جمی رہیں گی
حسد کی آتش سے اُن کے سینے بھرے رہیں گے
کہ ساری عظمت خدا نے عمراں کے کُنبے والوں میں جا رکھی ہے
یاقوت کے ورق