← تحریروں کی فہرست
شاعری

ابھی پوری بارش

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

ابھی پوری بارش نہیں دل پہ برسی
ابھی چوڑے دریا نہیں بہہ کے نکلے
ابھی مونگے پلکوں کے سیپی میں بند ہیں
نہیں لعل اشکوں کے عارض پہ ڈھلکے
ابھی خیمے بادل کے کم سُرمئی ہیں
ابھی صحرا پھولوں سے یکسر تہی ہیں
ابھی بجلیاں کُھل کے گرجی نہیں ہیں
ابھی تیرگی آندھیوں کی نہیں ہے
وے جل تھل پڑے گا کبھی بحرو بر میں
تو پھر شب فسانہ بھنور میں پڑھیں گے
فسانہ پڑھیں گے غمِ ناخدا کا
کٹے لنگروں کا پھٹے بادباں کا
تماشا کسی روز ساحل پہ ہو گا
سفینے کی ٹوٹی ہوئی تختیوں کا
ابھی نور آنکھوں کا ریشم بنے گا
ابھی باغِ لالہ شفق میں ڈھلے گا
ابھی تو اجل سے یہ جاں کانپتی ہے
ابھی تو فنا سے یہ دل بھی ڈرا ہے
کسی دن مقابل اجل کے ہوئے تو
فنا و بقا کا یہ ڈر مٹ رہے گا
کسی دن سوادِ عدم میں گئے تو
وجودِ بدن کا نہ دھوکا رہے گا

مارچ کے پھول