← Back to writings
Poetry

ادرکنی یا ابنِ کعبہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ادرکنی یا حیدر صفدر
کچھ روز سلامت رہ جائیں گر دل کی شاخیں
اور شاخوں میں چلتی شفق
کچھ روز اگر نہ مرجھائے یہ سُرخ کلی سا گہرا پھول
اور پھولے نہ پھول کی سانس
یا حیدر صفدر
تیری مدد سے دُور رہے کچھ سال قضا کا اژدر
تیرے دستِ اِلٰہی میں ہوں اِس کے جبڑے
تو بات بنے
بات بنے پھر سبز رُتوں کی
بات بنے پھر ساونی لفظوں کے باغوں کی
باغ کھِلیں گے تیری نصرت کی مٹی پر
اے مٹی کے باپ
اے شہرِ رسالت کے دروازے
کھولے رکھنا میرے لیے
علم و ہنر کے ساتھ ابھی تک میری حیات کا باب
ابھی تلک ہیں مولا میری آنکھ میں زندہ خواب

مارچ کے پھول