ادرکنی یا ابنِ کعبہ
علی اکبر ناطق
ادرکنی یا حیدر صفدر
کچھ روز سلامت رہ جائیں گر دل کی شاخیں
اور شاخوں میں چلتی شفق
کچھ روز اگر نہ مرجھائے یہ سُرخ کلی سا گہرا پھول
اور پھولے نہ پھول کی سانس
یا حیدر صفدر
تیری مدد سے دُور رہے کچھ سال قضا کا اژدر
تیرے دستِ اِلٰہی میں ہوں اِس کے جبڑے
تو بات بنے
بات بنے پھر سبز رُتوں کی
بات بنے پھر ساونی لفظوں کے باغوں کی
باغ کھِلیں گے تیری نصرت کی مٹی پر
اے مٹی کے باپ
اے شہرِ رسالت کے دروازے
کھولے رکھنا میرے لیے
علم و ہنر کے ساتھ ابھی تک میری حیات کا باب
ابھی تلک ہیں مولا میری آنکھ میں زندہ خواب
مارچ کے پھول