میرا ساز
علی اکبر ناطق
یہ دُھلے دُھلے مرے پیڑ ہیں
مَیں اِنہی میں ہرا بھرا ہوا
یہ بھرے پُرے مرے کھیت ہیں
مَیں یہیں سے کاسنی چُنتا رہا
یہ حویلیوں کے اَرے پَرے
جو کھُلی کھُلی ہیں کیاریاں
یہاں توریوں کے مزاج کی
چلی دل میں کانچ کی انگلیاں
یہیں پنچھیوں کے تھے پر کھُلے
جو اُڑے شفق کے غروب میں
یہیں چینے پر کی تھیں تتریاں
کبھی حوض میں کبھی راہ میں
مَیں کہ تتریوں میں چلا پھرا
مَیں کبوتروں میں اُڑتا رہا
مرے دوستو تمھیں ہو اگر
کبھی جستجو مری روح کی
مجھے نبضِ شاخ میں ڈھونڈنا
مجھے طائروں کے جہان سے
کسی غم کے سُر میں پکارنا
مَیں تمھارا شاعرِ جمالِ جاں
تمھیں دل کے گھر میں بٹھاؤں گا
تمھیں دوں گا بوسہ جبین پر
مارچ کے پھول