چرواہوں کے دیس
علی اکبر ناطق
کون چلے گا من کا پیاسا چرواہوں کے دیس
چرواہوں کے دیس میں پھولوں اوربھنوروں کے بھیس
چرواہوں کے دیس کا پانی نیلا اور برفاب
جیسے پِگھلی جھیل کی چاندی جیسے کنول تالاب
چرواہوں کے دیس میں بھیڑیں اور شاموں کے چاند
آنکھ کی سُرخی سے پڑتی ہے چاند کی لالی ماند
ڈوبتے سورج کی دُلہن کے ہاتھ پہ مہندی لال
اور دوپٹا ایک شفق کا پھیرے غربی چال
چرواہوں کے دیس میں پھیلی سبز رُتوں کی آگ
آگ بدن کی راہ سے ہو کر من کے جگائے بھاگ
مارچ کے پھول