اَبد کی سانسیں
علی اکبر ناطق
سبز چراغ جلائے شہلا آنکھوں نے
کیوڑا چھڑکا گرم حنائی ہاتھوں نے
رقص کِیا بے باک کنواری پریوں نے
کس نے بتائے راز ازل کی شاموں کے
سرخ رُتوں کی بات ہے جب میں سویا تھا
ڈھانپ لیا تھا زرد گلوں کی چادر نے
ایک گلابی آنکھ بھی مجھ پر روئی تھی
نور بچھانے والے نور بچھا آئے
سوز میں گانے والے نوحہ کر آئے
ساتھ رہا جو یاد کا ایک وہ تارا تھا
اُس تارے کی ناف میں اَبر کا پارہ تھا
مَیں پارے کی روح میں اُڑتا پھرتا ہوں
میری جبیں پر لفظ کے موتی گرتے ہیں
مَیں رنگوں میں ساز ملا کر گاتا ہوں
پاس مرے ہیں راز ابد کی سانسوں کے
یاقوت کے ورق