اِک نظر دیکھ کہ اُبھری ہے اذاں رنگوں کی
علی اکبر ناطق
اِک نظر دیکھ کہ اُبھری ہے اذاں رنگوں کی
تجھ کو لبیک سناتی ہے زباں رنگوں کی
شامِ گل رنگ میں جھڑ جھڑکے گرے عارضی پھول
صبح دم رُخ پہ نمایاں ہے خزاں رنگوں کی
حوض میں پھول گرے ہیں کہ چراغوں کی لوَیں
کشتیاں نور کے پانی پہ رواں رنگوں کی
دُھول کے نام ہوا تیرے دیاروں کا سفر
دُھوپ کی رُوپ ہوئی شکل جواں رنگوں کی
مُو قلم ریگ سرابوں کی اُڑاتا ہے وہاں
نقش کرنے کی ضرورت ہے جہاں رنگوں کی
سبز بستیوں کے غزال