← Back to writings
Poetry

آنکھ کی جھیلیں سرد رہیں توراہ نکلنا مشکل ہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

آنکھ کی جھیلیں سرد رہیں توراہ نکلنا مشکل ہے
برفوں اور کنول کے بیچ میں کشتی چلنا مشکل ہے

سورج جم کر بیٹھ گیا ہے گھر کی لال مسہری پر
آپ نہ لائے کالی بھنویں توشام کا ڈھلنا مشکل ہے

درد کا کالا دریا بپھرا لمبی عمر کی موجیں ہیں
دل کا بجرہ ڈوب رہے گا آج سنبھلنا مشکل ہے

جب تک آنکھ لہو نہ دے گی رات کی گرہیں کیسے کھُلیں
دیکھ لو روغن ڈال کے جیسا دیے کاجلنا مشکل ہے

ہم نے اُس کے سنہرے تن کو ہاتھ سے چھو کر دیکھ لیا
آگ تپا ہے خا لص سونا رنگ بدلنا مشکل ہے

نافِ بحر کا پانی گہرا سانس اُکھڑتی ہے دَم میں
سبزہ چڑھا ہے چاندی بدن پر مونگے چُننا مشکل ہے

دل میں چھیدہزاروں ہو کر ایک بنے ہے نور کی راہ
لعلِ جگر سے تارِ نظر کے تارے بُننا مشکل ہے

سبز بستیوں کے غزال