← Back to writings
Poetry

دل ترے غم کو سہہ گیا کیسے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دل ترے غم کو سہہ گیا کیسے
آگ میں پھول رہ گیا کیسے

اے مری آنکھ کے سُبک چشمے
تُو کناروں سے بہہ گیا کیسے

کعبہ دل کا تھا محترم تجھ کو
تیرے ہاتھوں سے ڈھہ گیا کیسے

آبِ نمکیں ہماری آنکھوں کا
غم روانی میںکہہ گیا کیسے

دن کے نیزے کا سر پھرا سورج
شب کے تیروں کی تہہ گیا کیسے

مَیں کہ شیعہ تھا حُسنِ اکبر کا
پھر زیارت سے رہ گیا کیسے

سبز بستیوں کے غزال