آنکھ کی جھیلیں سرد رہیں توراہ نکلنا مشکل ہے
علی اکبر ناطق
آنکھ کی جھیلیں سرد رہیں توراہ نکلنا مشکل ہے
برفوں اور کنول کے بیچ میں کشتی چلنا مشکل ہے
سورج جم کر بیٹھ گیا ہے گھر کی لال مسہری پر
آپ نہ لائے کالی بھنویں توشام کا ڈھلنا مشکل ہے
درد کا کالا دریا بپھرا لمبی عمر کی موجیں ہیں
دل کا بجرہ ڈوب رہے گا آج سنبھلنا مشکل ہے
جب تک آنکھ لہو نہ دے گی رات کی گرہیں کیسے کھُلیں
دیکھ لو روغن ڈال کے جیسا دیے کاجلنا مشکل ہے
ہم نے اُس کے سنہرے تن کو ہاتھ سے چھو کر دیکھ لیا
آگ تپا ہے خا لص سونا رنگ بدلنا مشکل ہے
نافِ بحر کا پانی گہرا سانس اُکھڑتی ہے دَم میں
سبزہ چڑھا ہے چاندی بدن پر مونگے چُننا مشکل ہے
دل میں چھیدہزاروں ہو کر ایک بنے ہے نور کی راہ
لعلِ جگر سے تارِ نظر کے تارے بُننا مشکل ہے
سبز بستیوں کے غزال