← تحریروں کی فہرست
شاعری

اک نگر کی باوری

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اک نگر کی باوری

کچی راہ پر چلی
کچی ر ہ کے دو طرف

پانیوں کے شہر ہیں
پانیوں کے شہر میں

کشتیاں ہیں آگ کی
سُولیوں سے سر بلند

کشتیوں کے بادباں
بادبانوں پر نظر

تیز رُو ہوائوں کی

باوری کے پائوں کی

اُنگلیاں شراب کی
لڑکھڑاکے چلتی ہے

ڈوبتی سی راہ پر
کچھ دنوں کی بات ہے

باوری ندان تھی
شعلگی سے بے خبر

ٹھنڈے دیس کی پری
بادلوں میں اُڑتی تھی

ساونی کبوتری
ساونی کا رنگ تھا

بیریوں کے رنگ میں
بیریوں پہ کا سنی

پتیوں کی چھاونی
پتیوں کی اوٹ میں

فاختہ کے آہلنے
کچی کچی تیلیاں

آہلنے کی سانس میں

باوری کو کیا خبر

اب نہیں وہ ساونی
ساونی کی کوئلیں

کوئلوں کی بولیاں
چاندنی کے کنکوے

جگنوئوں کی ڈولیاں
کس نگر چلی گئیں

کس ہوا میں گھِر گئیں
آہلنے بکھر گئے

فاختائیں اُڑ گئیں

سُرمنڈل کا راجہ