← تحریروں کی فہرست
شاعری

بلّیاں

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

وہ مدّعی ہیں اُن کو فاختہ عزیز ہے
جو پالتے ہیں بلّیاں چکھا کے ذائقے لہو کے
اور سیکھتے ہیں صبح وشام ناخنوں کو تیز کرنے کا ہنر
نکیلی چمٹیوں سے کھینچتے ہیں چیونٹیوں کے زہرکو
پھر آب دے کے تالوؤں کے درمیان
چاقوؤںکی تیز دھارکوبجھاتے ہیں وہ زہر کی مٹھاس سے

ہماری آنکھ کے قریب سے، نظر کے فاصلوں کے بیچ دوڑتی ہیں سیاہ فام چوہیاں
پکارتی ہیں اپنی نسل کو پُرانے اور بے نشاں کھنڈر ، تباہ بستیوں کی اور سے
جو دانت کچکچا کے کاٹتی ہیں گرد و پیش کے تمام سرخ وسبز کو

اُنھیںگُمان ہے یہ بلّیاں پروںکو نوچتی نہیں
یتیم گردنوںکو تیز دھار چاقوؤںسے کاٹتی نہیں
اُنھیں گمان ہے وہ لائے ہیں چمکتی آنکھ والی جنگلی سفید بِلّیوںکو
بدنصیب اور وحشی چوہیوں کا خون چاٹنے کے واسطے
کہ بچ رہیںزمیںکی سبز کھیتیاں
مگر یہ بلّیاں،کہ آئی ہیں پرانے اوربے نشاں کھنڈر،تباہ بستیوں کے درمیان رہنے والی چوہیوں کے قُرب سے
یہ مل کے چاٹتی رہِیں پرانی بستیوں کے بے گنہ کبوتروں کا خون اور کاٹتی رہیں زمیں کے سرخ و سبز کو
سو ان کا ایک دوسرے سے کُہنہ ربط ہے
اُدھر وہ مدّعی کہ اُن کو فاختہ عزیز ہے جو پالتے ہیں بلّیاں

بے یقین بستیوں میں