تیری گلیوں میں ہوا رات غضب چلتی رہی
علی اکبر ناطق
تیری گلیوں میں ہوا رات غضب چلتی رہی
صبح تک آگ سی پیشانی مری جلتی رہی
جس کی بِیلوں پہ کبھی پھول نہ آئے وہ بہار
دل کے باغوں میں وہ صر صر کی طرح پلتی رہی
گھنٹیاں یار کے دروازے پہ باندھ آئے تھے
ایک زنجیرِ ہوس دل میں سدا ہلتی رہی
قطرہ قطرہ مری آنکھوں سے لہوکی تر سیل
تیرے اَبرو کی سناں زیرِجگر چلتی رہی
بجھ گیاصبح تلک شب کا ستایا ہوا نُور
دل سُبک جلتا رہا رات سُبک ڈھلتی رہی
سبز بستیوں کے غزال