جالاکاتنے والے
علی اکبر ناطق
سوگ منایا سوگ منایا سوگ منانے والوں نے
اُس آنگن کا جس آنگن کی غم نے دھول اُڑائی ہے
اُن گلیوں کا جن گلیوں میں بھوت پھریں دوپہروں میں
اُجڑے پیڑوں کی ٹُنڈ شاخیں سایا سایا چلتی ہیں
میلی آنکھوں والے اُلّو جن پر بیٹھ کے روتے ہیں
رات گئے تک آوازوں میں تلخ دھوئیں کا ایک غبار
لیکن مرگئے نوحہ والے کون بِٹائے ان کا ہاتھ
شور مچایا شور مچایا کالے ٹخنوں والی نے
جنم جنم کے بھوکے بالک جس کی گود کا حصہ ہیں
کانپ کانپ کے ڈرجاتی ہے بھورے دن کی دیوی سے
پستانوں کو داب رہی ہے چُھپ کر درد کے ڈھیروں میں
آگ لگائی آگ لگائی سرد ہواؤں نے دل میں
راکھ کا بستہ کردیتی ہے سانس کے زندہ ریشوں کو
لیکن کون بجھائے اس کو یہ جنموں کی بھوکی آگ
کاتنے والے کات رہے ہیں جالا میری آنکھوں پر
دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں اور بہت خاموش
یاقوت کے ورق