← تحریروں کی فہرست
شاعری

جس کے شہروںپر صنوبراور گلوں کے سائے ہیں

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

جس کے شہروںپر صنوبراور گلوں کے سائے ہیں
ننگے سور ج والیو ہم اُس وطن سے آئے ہیں

دل جلا کے رکھ دیے جس گل بدن کی آگ نے
ہم اُسی زرًیں چمن سے پھول چُن کر لائے ہیں

بستی والو اِک کھنڈر کی آبیاری کے لیے
تیرگی کے حکم نامے روشنی کو آئے ہیں

موتیوں کی چاندنی سے بحر خالی ہو گئے
کچی سیپوں کے جواہر پانیوں نے کھائے ہیں

کالی راتیں، اجنبی چہرے، ہوائیں کم سُخن
اُس گلی کی رونقوں نے کیا تماشے پائے ہیں

سبز بستیوں کے غزال