← تحریروں کی فہرست
شاعری

خمِ غدیر

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

کہاں ہو بوذر قریب آئو
بلال نقارچی سے کہہ دو منادی کردے
تمام صحرا نشیں، عرب کے رئیس زادے
اب اک عصا بھر کا فاصلہ بھی نہ آگے جائیں
جو اس مقامِ علیؑ سے آگے نکل گئے ہیں وہ لوٹ آئیں
جو سُست رو ہیں ہمارے پیچھے
وہ اپنے اونٹوں کو تیز ہانکیں، قریب آئیں
مَیں اُس خدا کی بشارتوں کا سنانے والا ہوں
جس کے وعدے غدیرِخم کے عظیم میداں تک آگئے ہیں
عرب کے پہلے اور
آنے والے دنوں کے بیٹوں
بڑے قبیلوں کے شیخ زادو
سواریوں کی مہار کھینچو،زمیں پہ آئو
یمن کے نیلے کناروں والی عبائیں کاندھوں سے نیچے رکھ دو
عمامے اپنے سروں کی صحبت سے دور کر دو
سماعتوں کو مری صدا کے قریب لائو
یہ میرے پہلو میں میرا بھائی تمھاری آنکھوں کے سامنے ہے
ہم آج منبر پہ اس لیے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کوئی
علیؑ کی بابت دلیل مانگے تو اُس سے کہنا
کہ جن کے پالان سے یہ منبر بنا کے اُس پر علیؑ کی حجت تمام کی تھی
اُنھیں دلیلوں سے کیا لگائو
عرب کے پیرو جوان سُن لو
یہ میرا بھائی سخی کا بیٹا، تمھارا مولا
حلال زادوں کے قلب اس کی محبتوں کی امان گاہ ہیں
یہی علیؑ ہے عرب کا سید
اسی کے چہرے پہ قولِ صادق کی روشنی ہے
خدا کے حلّ وحرم کا وارث
جب اُس کے دیں پر غنیم آیا
اِسی نے بڑھ کر نیام سے ذوالفقار کھینچی
یہ اُس نجیب و کریم ہستی کا مرد بیٹا
جسے خدا نے بھرے جہانوں میں میری بابت امین سمجھا
یہی ہے جس نے عرب کے فتنہ گروں کی ناکیں زمیں پہ رگڑیں
وہ گردنیں جو اکڑ گئیں تھیں
اسی کی تیغِ دونوک نے اُن کو آگ دی تو وہ خم ہوئی ہیں
خدا کی آ یت شریف لہجے میں سننے والو
اگر تمھارے نسب نہ روکیں تمھارا رستہ، تو اِس کو مانو
گلے میں اپنے اطاعتوں کا قلاوہ ڈالو
اِسے سنو گے تو میں تمھاری بقا کا ضامن
تمھارے حج و نماز روزے قبول کر لوں گا، بس قرابت کا پاس رکھنا
زمیں کے پست و بلند خطوں میں رہنے والو
یہی علیؑ ہے مری قرابت
جو آنے والے دنوں میں حجت
خدا کی بستی میں رہنے والے شریف لوگوں کے دل کی ڈھارس
یہ کفرو ایماں میں خطِّ فاصل
جہان والو علیؑ کو مانو تو مَیں تمھاری شفاعتوں کا کریم ضامن

سُرمنڈل کا راجہ