خوف ہے دربار میں اور مسندوں پہ سائے ہیں
علی اکبر ناطق
خوف ہے دربار میں اور مسندوں پہ سائے ہیں
قیدیوں کے مطمئن چہروں سے دل گھبرائے ہیں
شام کے اژدر! لُٹا دے سیم و زر کی تھیلیاں
کالی چادر والی بی بی سر برہنہ لائے ہیں
جاں پنا ہا آپ کی تلوار سر افراز ہو
سوگ والی بستیوں سے کچھ قبیلے آئے ہیں
کچے کوزے بیچنے والوں کے مٹی کے ہیں لیکھ
عمر بھر کے رنگ و روغن آویوں نے کھائے ہیں
سوت کے دھاگے سے پھینکی قصرِ یوسف پر کمند
پیر زن نے اُونچے کنگروں پر عَلَم لہرائے ہیں
سبز بستیوں کے غزال