← Back to writings
Poetry

دشت میں مست پھرا، مُشک اُڑا، عام ہوا

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دشت میں مست پھرا، مُشک اُڑا، عام ہوا
سبز بستی کے غزالوں میں مرا نام ہوا

ایک کے بعد کرَن ایک چلی سوئے شفق
اے رُخِ مہر ترا خون رگِ شام ہوا

آج وہ دھُول پڑی دل کی بیابانی میں
گھر بگولوں میں اُڑا صر صرِ انجام ہوا

تیغیں پیوست اندھیروں کے درو بام میں ہیں
مَیں، کہ دیواریں گرانے میں لہو فام ہوا

اُس گُلِ نور کے سائے میں فرشتوں کا قیام
جس کے باغوں سے گزر کر مَیں صبا گام ہوا

سبز بستیوں کے غزال