← Back to writings
Poetry

پھول سرد ہو گئے ہیں کچھ ہوا میں سانس لو

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

پھول سرد ہو گئے ہیں کچھ ہوا میں سانس لو
سُرخ رنگ کا خراج نیل کو ذرا سا دو

پانیوں نے میری آنکھ میں بھری ہے کاسنی
شربتی نگاہ زرد سیپیوں میں پھیر دو

شب اگر رُکو گےدوست چاند کو خبر کروں
صبح تک چھپائے گا وہ آفتابِ شیشہ کو

چشم آبِ شور سے نہ خالی ہونے دے کبھی
دل کی صاف کر زمین تُخمِ غم کو اِس میں بو

نامِ یاعلیؑ کا وِرد دل کی دھڑکنوں میں رکھ
سر کٹے، کھنچے زبان، اِس کے بعد جو بھی ہو

تصویروں کا باغ