پھول سرد ہو گئے ہیں کچھ ہوا میں سانس لو
علی اکبر ناطق
پھول سرد ہو گئے ہیں کچھ ہوا میں سانس لو
سُرخ رنگ کا خراج نیل کو ذرا سا دو
پانیوں نے میری آنکھ میں بھری ہے کاسنی
شربتی نگاہ زرد سیپیوں میں پھیر دو
شب اگر رُکو گےدوست چاند کو خبر کروں
صبح تک چھپائے گا وہ آفتابِ شیشہ کو
چشم آبِ شور سے نہ خالی ہونے دے کبھی
دل کی صاف کر زمین تُخمِ غم کو اِس میں بو
نامِ یاعلیؑ کا وِرد دل کی دھڑکنوں میں رکھ
سر کٹے، کھنچے زبان، اِس کے بعد جو بھی ہو
تصویروں کا باغ