دل کا لبادہ
علی اکبر ناطق
دل کا لبادہ نرم بہت ہے
رگ رگ میں اک درد بھرا ہے
ہاتھ سے چھونا دُور ہے بیلی
سوچ کی لہر سے دکھ جاتا ہے
گہرے رنگ کا سرخ لبادہ
ریشہ ریشہ خون میں سینچا
آنکھ لگے تو پھٹ جاتا ہے
گزری رُتوں میں بٹ جاتا ہے
سہہ نہ سکے جو ٹھیس نظر کی
بنے نہ بات چارہ گر کی
اتنا نازک کام ہے جس کا
تم ہی بتاؤ یار ہمارے
کون رفو گر اس کو سیے گا
یاقوت کے ورق