← Back to writings
Poetry

دل کا لبادہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دل کا لبادہ نرم بہت ہے
رگ رگ میں اک درد بھرا ہے
ہاتھ سے چھونا دُور ہے بیلی
سوچ کی لہر سے دکھ جاتا ہے

گہرے رنگ کا سرخ لبادہ
ریشہ ریشہ خون میں سینچا
آنکھ لگے تو پھٹ جاتا ہے
گزری رُتوں میں بٹ جاتا ہے
سہہ نہ سکے جو ٹھیس نظر کی
بنے نہ بات چارہ گر کی
اتنا نازک کام ہے جس کا
تم ہی بتاؤ یار ہمارے
کون رفو گر اس کو سیے گا

یاقوت کے ورق