ہرا ہے گر شجرِ دل تو چشم نم سے ہے
علی اکبر ناطق
ہرا ہے گر شجرِ دل تو چشم نم سے ہے
چشمِ نم بھی حسین اک تمھارے غم سے ہے
فرات کو اُٹھا کر چلا نہ صدیوں سے
کہ شرم سار وہ عباس کے علم سے ہے
اُٹھاؤ ہاتھ کہ فرمان فاطمہ کا ہے
جو ماتمی ہے ہمارا وہی تو ہم سے ہے
جگر کے لخت دیے دشت کو تو گل پھوٹے
رُخِ حیات پہ سبزہ شہیدِ سَم سے ہے
مرا حسینؑ خدا کا مزاج رکھتا ہے
کہ آج حر بھی سپاہِ شہیدِ اُمم سے ہے
یاقوت کے ورق